پنجاب یونیورسٹی (لاہور) CGPA اور GPA کیلکولیٹر

پنجاب یونیورسٹی کے سمسٹر قواعد میں دیے گئے سرکاری ٹیبل (A = 4.00، A- = 3.70، B+ = 3.30 وغیرہ) سے اپنے سمسٹر کا GPA اور مجموعی CGPA معلوم کریں۔ اپنے نمبر یا لیٹر گریڈ لکھیں اور کریڈٹ آورز کے حساب سے نتیجہ فوراً دیکھیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی گریڈنگ کیسے کام کرتی ہے ↓

گریڈنگ سسٹم: پنجاب یونیورسٹی، سمسٹر سسٹم (انڈرگریجویٹ)

ہر مضمون کے نمبر فیصد میں لکھیں یا لیٹر گریڈ چنیں۔ گریڈ پوائنٹس پنجاب یونیورسٹی کے سمسٹر قواعد سے لیے گئے ہیں۔

سمسٹر GPA

ہر مضمون کو اس کے کریڈٹ آورز اور گریڈ کے ساتھ شامل کریں۔

آپ کا سمسٹر GPA
— / 4.00
اپنا GPA دیکھنے کے لیے مضامین شامل کریں۔
GPA کا حساب کیسے ہوتا ہے؟

GPA = (Σ کریڈٹ آورز × گریڈ پوائنٹس) ÷ (Σ کریڈٹ آورز)

مثال: ریاضی 3 کریڈٹ اور 4.00 گریڈ پوائنٹس، انگریزی 2 کریڈٹ اور 3.00 ← (3×4 + 2×3) ÷ (3+2) = 18 ÷ 5 = 3.60

پنجاب یونیورسٹی میں گریڈنگ کیسے ہوتی ہے

پنجاب یونیورسٹی لاہور کے بی ایس (چار سالہ) اور ایسوسی ایٹ ڈگری (دو سالہ) پروگرام سمسٹر سسٹم پر چلتے ہیں۔ ہر مضمون (کورس) کے کچھ کریڈٹ آورز ہوتے ہیں، عام طور پر 2 سے 4، اور ہر مضمون کا نتیجہ سو میں سے نمبروں کی صورت میں بنتا ہے۔ ان نمبروں میں مڈٹرم، اسائنمنٹس اور فائنل امتحان کے نمبر شامل ہوتے ہیں۔ پھر یہ نمبر ایک مقررہ ٹیبل کے ذریعے لیٹر گریڈ اور گریڈ پوائنٹس میں بدلے جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ GPA اور CGPA 4.00 ہو سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ایچ ای سی کے تحت پاکستان کی زیادہ تر جامعات میں ہوتا ہے۔

قواعد کے مطابق لیٹر گریڈ صرف ہر مضمون کے نتیجے کے لیے استعمال ہوتا ہے، سمسٹر کے GPA یا مجموعی CGPA کے لیے نہیں۔ یعنی آپ کے ٹرانسکرپٹ پر ہر کورس کے سامنے گریڈ لکھا ہوگا، لیکن سمسٹر کے آخر میں صرف عدد (مثلاً 3.27) آئے گا۔

ایک اہم بات جو اکثر طلبہ نہیں جانتے: اگر کسی مضمون میں آپ کے نمبر کسر میں ہوں تو وہ کسر پورا ایک نمبر گنی جاتی ہے۔ قواعد کی اپنی مثال میں 71.4 نمبر 72 بن جاتے ہیں، جو B گریڈ اور 3.00 پوائنٹس ہیں۔ اسی طرح 64.1 کو 65 گنا جائے گا اور گریڈ C+ کے بجائے B- ملے گا۔ اوپر والا کیلکولیٹر بھی یہی اصول خود لگاتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کا گریڈنگ ٹیبل

نمبر (فیصد)لیٹر گریڈگریڈ پوائنٹس
85 اور زیادہA4.00
80 – 84A-3.70
75 – 79B+3.30
70 – 74B3.00
65 – 69B-2.70
61 – 64C+2.30
58 – 60C2.00
55 – 57C-1.70
50 – 54D1.00
50 سے کم یا غیر حاضرF0.00

غور کریں کہ یہ ٹیبل ایچ ای سی کے عام ٹیبل سے تھوڑا مختلف ہے۔ یہاں A- کے 3.70 اور B+ کے 3.30 پوائنٹس ہیں (3.67 اور 3.33 نہیں)، B کی حد 70 سے شروع ہوتی ہے، اور D+ کا کوئی گریڈ نہیں: 50 سے 54 نمبر سیدھا D یعنی 1.00 ہے۔ اس لیے کسی دوسری یونیورسٹی کا کیلکولیٹر استعمال کرنے سے آپ کا GPA تھوڑا غلط آ سکتا ہے۔

GPA اور CGPA کیسے نکالیں: مثال کے ساتھ

سمسٹر کا GPA نکالنے کے لیے ہر مضمون کے گریڈ پوائنٹس کو اس کے کریڈٹ آورز سے ضرب دیں، سب کو جمع کریں اور کل کریڈٹ آورز سے تقسیم کر دیں:

GPA = Σ (کریڈٹ آورز × گریڈ پوائنٹس) ÷ Σ کریڈٹ آورز

فرض کریں سارہ نے پہلے سمسٹر میں یہ نمبر لیے:

مضمونکریڈٹ آورزنمبرگریڈکریڈٹ × پوائنٹس
کیلکولس386A (4.00)12.00
فزکس378B+ (3.30)9.90
پروگرامنگ372B (3.00)9.00
اسلامیات263C+ (2.30)4.60
انگلش366B- (2.70)8.10
کل1443.60

GPA = 43.60 ÷ 14 = 3.11

دوسرے سمسٹر میں سارہ کے 16 کریڈٹ آورز ہیں اور GPA 3.40 آتا ہے، یعنی 3.40 × 16 = 54.40 پوائنٹس۔ CGPA تمام کورسز کی کریڈٹ کے حساب سے اوسط ہے:

CGPA = (43.60 + 54.40) ÷ (14 + 16) = 98.00 ÷ 30 = 3.27

اگر آپ دونوں سمسٹرز کے GPA کی سادہ اوسط لیں تو (3.11 + 3.40) ÷ 2 = 3.26 آئے گا، جو درست نہیں، کیونکہ زیادہ کریڈٹ والا سمسٹر زیادہ وزن رکھتا ہے۔ F والا مضمون صفر پوائنٹس کے ساتھ حساب میں شامل ہوتا ہے، یعنی اس کے کریڈٹ آورز تقسیم میں گنے جاتے ہیں۔ کیلکولیٹر کا CGPA ٹیب یہ سب خود کر دیتا ہے۔

پروموشن، پروبیشن اور کم از کم CGPA

  • پہلا سمسٹر: GPA 2.00 یا زیادہ ہو تو اگلے سمسٹر میں پروموشن۔ 1.50 سے 2.00 کے درمیان ہو تو پروبیشن پر پروموشن۔ 1.50 سے کم ہو تو نام خارج۔
  • دوسرے سمسٹر سے آگے: CGPA 2.00 یا زیادہ ہو تو پروموشن، 1.70 سے 2.00 کے درمیان ہو تو پروبیشن، اور 1.70 سے کم ہو تو نام خارج۔
  • پروبیشن پورے پروگرام میں دو بار تک مل سکتی ہے۔
  • ڈگری کے لیے (بی ایس یا ایسوسی ایٹ ڈگری) کم از کم CGPA 2.00 ضروری ہے۔
  • F اور D گریڈ والے مضامین دوبارہ رجسٹر کر کے بہتر گریڈ کے لیے پڑھے جا سکتے ہیں۔

اگر آپ کا CGPA 2.00 سے نیچے ہے تو کیلکولیٹر کا ٹارگٹ ٹیب بتاتا ہے کہ اگلے سمسٹرز میں کتنا GPA چاہیے۔

پنجاب یونیورسٹی CGPA سے فیصد

سمسٹر قواعد کے مطابق ٹرانسکرپٹ کے سامنے والے حصے پر GPA/CGPA کے ساتھ حاصل کردہ CGPA کے مقابلے میں مجموعی فیصد بھی لکھا جاتا ہے، لیکن قواعد میں اس کا فارمولا نہیں دیا گیا۔ اس لیے کسی فارم پر فیصد لکھنا ہو تو اپنے ٹرانسکرپٹ والا فیصد ہی لکھیں۔

اگر ٹرانسکرپٹ ابھی نہیں ملا تو اندازے کے لیے عام طریقہ (CGPA ÷ 4) × 100 ہے، مثلاً 3.27 کا تقریباً 81.75%۔ فیصد والا ٹیب یہی دکھاتا ہے، لیکن یہ سرکاری فارمولا نہیں، اس لیے اپنی یونیورسٹی سے تصدیق ضرور کریں۔

PU CGPA: اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پنجاب یونیورسٹی میں A گریڈ کتنے نمبروں پر ملتا ہے؟

85 فیصد یا اس سے زیادہ نمبروں پر A ملتا ہے جس کے 4.00 گریڈ پوائنٹس ہیں۔ 80 سے 84 پر A- (3.70) اور 75 سے 79 پر B+ (3.30) ملتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں پاس ہونے کے لیے کتنے نمبر چاہئیں؟

کسی مضمون میں کم از کم 50 فیصد نمبر چاہئیں، جو D گریڈ (1.00) ہے۔ 50 سے کم نمبر یا غیر حاضری F ہے۔ ڈگری کے لیے کم از کم 2.00 CGPA بھی ضروری ہے۔

اگر میرے نمبر 64.5 ہوں تو کون سا گریڈ ملے گا؟

پنجاب یونیورسٹی کے قواعد میں کسر کو پورا ایک نمبر گنا جاتا ہے، اس لیے 64.5 کو 65 گنا جائے گا اور B- (2.70) ملے گا۔ کیلکولیٹر یہ خود کر دیتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں CGPA کیسے نکالا جاتا ہے؟

تمام مضامین کے (کریڈٹ آورز × گریڈ پوائنٹس) جمع کر کے کل کریڈٹ آورز سے تقسیم کریں۔ یہ کریڈٹ کے حساب سے اوسط ہے، اس لیے سمسٹرز کے GPA کی سادہ اوسط لینا درست نہیں جب کریڈٹ آورز برابر نہ ہوں۔

پنجاب یونیورسٹی کا CGPA فیصد میں کیسے بدلیں؟

قواعد کے مطابق ٹرانسکرپٹ پر CGPA کے ساتھ مجموعی فیصد لکھا جاتا ہے، لیکن فارمولا قواعد میں نہیں دیا گیا۔ وہی فیصد استعمال کریں۔ اندازے کے لیے (CGPA ÷ 4) × 100 عام طریقہ ہے، مگر اس کی تصدیق یونیورسٹی سے کریں۔

ذرائع

آخری بار جانچا گیا: 22 اکتوبر 2026۔ یونیورسٹی کے قواعد بدل سکتے ہیں، اس لیے اپنا نتیجہ ہمیشہ اپنی یونیورسٹی کے تازہ ترین سرکاری قواعد سے ملا لیں۔ مزید دیکھیں: شرائطِ استعمال۔

مزید CGPA اور GPA کیلکولیٹرز

↑ کیلکولیٹر پر واپس جائیں